زلف محمّد کا ترنّم

واللّیل میں ہے زلف محمّد کا ترنّم
والشّمس میں رخسارۂ احمد کا ترنّم
والفجر میں ہے صبح رسالت کی بِشارت
والعصر میں ہے دور نبوت کی بِشارت
ہر پھول میں ہے روئے مدینہ کا تبسّم
شاخوں کی لچک میں قدِ آقَا کا تکلّم
یٰس سے مولانے کبھی اسکو پکارا
حم کبھی اور کبھی طس اشارہ
یہ رمز ہے کچھ عاشق و معشوق کی ما بین
سمجھا ہے جنھیں خلق میں اک سرور کونین
افلاک میں ہے احمدی افکار کی وسعت
دریائے تلاطم میں عیا عشق کیحرکت
والنّجم میں ہے برق نگہ اسکی نمودار
والارض میں بھی صبر و تحمّل کے ہیں آثار
قرآن عجب شیشۂ اخلاق نبی ہے
کَوکب کو یہی فخر کہ وہ مصطفوی ہے
ناصر کو یہی فخر کہ وہ مصطفوی ہے

